ہاتھی کو گھڑے میں کیسے ڈالیں

ہمارے نانا کمال کے قصہ گو تھے، جب بھی ملتے نیا قصہ سناتے، قصے کے ساتھ کوئی نہ کوئی کہاوت بھی جڑی ہوتی۔ کچھ قصے غم دوراں میں کھو گئے، کچھ آج بھی ازبرہیں۔ نجانے کیوں آج وہ قصے بہت یاد آ رہے ہیں۔ شاید اپنے بچوں کے دادا کو دیکھ کر۔ ان کی عادت بھی ہمارے نانا جیسی ہے، جب موڈ میں ہوں تو اپنے پوتے کو قصہ ضرور سناتے ہیں۔

تو چلئے آج ہم آپ کو وہی قصے سناتے ہیں۔ پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا (ہمارا، تمہارا اللہ بادشاہ)۔ بادشاہ بڑا نیک اور رحم دل تھا۔ اپنے تخت کو چلانے کے لئے اس نے بڑے تجربہ کار وزیر اور مشیر رکھے ہوئے تھے۔ وہی بادشاہ کو مشورے دیتےاورامور سلطنت چلانے میں مدد کرتے۔ بادشاہ کا ایک دوست تھا جو اسے بے حد عزیز تھا، لیکن وہ عقل کا تھوڑا کچا ہی تھا۔ منظور نظر تھا تو دربار کے ساتھ ساتھ بادشاہ اسے سفرمیں بھی ساتھ ہی رکھتا تھا۔

ایک دن بادشاہ سفر کو نکلا اور دوست کو بھی ساتھ لے چلا، گرمی کے دن تھے اس زمانے میں نہ بجلی تھی نہ آج کی طرح ہیلی کاپٹر کی سہولت۔ بادشاہ گھوڑے پہ سفر کیا کرتے تھے۔ گرمی نے نڈھال کیا تو بادشاہ نے آرام کا ارادہ کیا۔ دوست نے کہا آپ درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں آرام کریں، میں آپ کی حفاظت کے لئے موجود ہوں۔ بادشاہ چونکہ تھکا ہوا تھا تو جلدی سو گیا۔ اب کہیں سےایک مکھی آکر بادشاہ کی ناک پر بیٹھ گئی، بار بار ہٹانے پہ بھی نہ ہٹی۔ دوست نے سوچا اس مکھی کو مار ہی دینا چاہیے جو بادشاہ کے آرام میں مخل ہو رہی ہے۔ اس نے خنجر اٹھا لیا اور جیسے مکھی بادشاہ کی ناک پر بیٹھی تو اس نے وار کر دیا۔ مکھی کا کیا بنا یہ تو معلوم نہیں، بس بادشاہ کی ناک کٹ گئی۔ اس لئے سیانے کہتے ہیں کہ نادان کی دوستی نقصان دہ ہے۔

آجکل ہمارے ملک کا بھی کچھ یہ ہی حال ہے، نئے بادشاہ سلامت اپنے نادان دوستوں کے ساتھ ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے میں مصروف ہیں۔ وزیروں، مشیروں کا انتخاب ہو رہا ہے، دوست وفادار بھی ہیں اور سمجھدار بھی، لیکن مکھی ہے کہ بار بار آ کر ناک پہ ہی بیٹھ رہی ہے۔ پہلا قصہ(وزیر اعلی کے انتخاب والا)ابھی پرانا نہیں ہوا تھا کہ نیا فساد اٹھ کھڑا ہوا۔ اب ایک دوست کہ رہا کہ عاطف میاں کمیٹی ممبر رہیں گے اور کبھی خبر آرہی ہے کہ ان کو کمیٹی سے نکال دیا گیا ہے، اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ یہ تو اللہ ہی جانے، لیکن سیانے سچ ہی کہہ گئے ہیں کہ نادان کی دوستی نقصان دہ ہے، اب دیکھئے ناک بچتی ہے کہ دوستی۔

لگے ہاتھوں اور ایک اور قصہ بھی سن لیجیے، وہی بادشاہ والا۔ جس کا ایک شہزادہ تھا بہت ہی لاڈلا۔ لاڈلے کو میلہ دیکھنے کا شوق چرایا تو میلہ سج گیا۔ اب میلے میں بڑی دل لبھاتی چیزیں ہیں لیکن لاڈلے کو ہاتھی پسند آ جاتا ہے۔ چونکہ شہزادہ تھا تو ہاتھی خرید لیا گیا۔ اب شہزادہ آگے گیا تو اس کو گھڑا پسند آ گیا وہ بھی اس کی ملکیت بنا دیا گیا۔ لاڈلا بچہ بہت خوش ہوا اور آخری فرمائش کر دی۔ آپ کو معلوم ہے کون سی؟ نہیں معلوم؟ چلیں ہم بتائے دیتے ہیں۔ اب ہاتھی کو گھڑے کے اندر ڈال دو، یہ وہ مسئلہ ہے جو آج تک کسی سے حل نہیں ہو رہا، لاڈلا اب تک رو رہا ہے۔ اس لئے سیانے کہتے ہیں بچوں کو بے جا لاڈ مت دو۔

کچھ عرصہ پہلے ایک قوم کا لاڈلا سیاست میں آگیا اور ضد ہی لگا لی کہ ہاتھی ہی لوں گا۔ ہاتھی تو مل گیا اب پالے کون اور سنبھالے کون؟ یہ بھی ضد کہ ہاتھی کو گھڑے میں ڈال دیں۔ (یعنی پورے پانچ سال کی حکومت)۔ دوست پریشان ہیں کہ یہ سب کیسے ہو گا؟ ویسے بھی جو ملکی حالات ہیں اس میں یہ مشکل نظر آتا ہے۔ اب لاڈلے کو کون سمجھائے کہ ہاتھی پالنا مشکل، سنبھالنا مشکل، اور گھڑے میں ڈالنا تو اور بھی مشکل۔

Share Your Comment


7567